برطانوی سیاست میں نئی تاریخ رقم ہوگئی

0
96

برطانوی سیاست میں نئی تاریخ رقم ہوگئی
90 برس بعد کسی برطانوی وزیراعظم کے دور میں اتنی بڑی تعداد میں عہدیدار مستعفی برطانوی سیاست میں نئی تاریخ رقم ہوگئی ہے اور 24 گھنٹوں میں حکومتی عہدوں سے ریکارڈ تعداد میں اراکین پارلمینٹ مستعفی ہوگئے ہیں۔لندن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں 38 وزرا، پرائیوٹ پارلیمانی سیکریٹریز اور دیگر عہدیدار حکومت سے علیحدہ ہوگئے ہیں۔
1932 کے بعد پہلی بار کسی ایک وزیراعظم کے دور میں اتنی بڑی تعداد میں حکومتی عہدیدار مستعفی ہوئے ہیں۔برطانوی کابینہ اور حکومتی عہدوں پر موجود اراکین کا وزیراعظم بورس جانسن پر عدم اعتماد کا سلسلہ جاری ہے۔نئے وزرا کی تعیناتیوں کے باوجود استعفوں کا سلسلہ نہ رک سکا اور وزیر اطفال ول کوئنس، سالسٹر جنرل الیکس چاک، وزیر اسکولز رابن واکر، پارلیمانی سیکریٹری لارا ٹروٹ اور ورجینیا کروسبی نے بھی استعفیٰ دے دیا۔ تجارتی ایلچی تھیو کلارک اور اینڈریو موریسن بھی اپنے عہدے چھوڑ چکے ہیں۔ اسی طرح جان گلین، فیلیسٹی بُکان، لی اینڈرسن اور رابرٹ ہالفون بھی بورس جانسن پر عدم اعتماد کرچکے ہیں۔ وزیر انصاف وکٹوریہ ایٹکنزمے، وزیر ورکس اینڈ پینشن ممز ڈیوس، وزیرثقافت جولیا لوپیز، وزیر تجارت لی راؤلی، وزیر تعلیم ایلکس برگارٹ بھی مستعفی ہوچکے ہیں۔ ادھر سینیئر ٹوری رکن پارلیمنٹ ڈاکٹر لیام فوکس اور وزیراعظم بورس جانسن کے دیرینہ ساتھی مائیکل گوو نے بھی انہیں استعفیٰ دینے کا مشورہ دیا ہے۔ برطانوی میڈیا کے مطابق وزیراعظم کے ترجمان کا کہنا ہے کہ بورس جانسن مستقبل میں کوئی بھی عدم اعتماد ووٹنگ جیت جائیں گے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here