عمیر کے قتل کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے بلال زیب ہنجرا

0
690

عمیر کے قتل کو غلط رنگ دیا جا رہا ہے بلال زیب ہنجراگزشتہ روز گجرات کے گاؤں سماں میں ہونےوالے دوہرے قتل کی لرزہ خیر واقعے کے اہم انکشافات سماں گاؤں میں عمیر اور ربیعہ کا قتل غیرت نہیں بلکہ کچھ ہور ہی نکلا4 بندوں نے اغواء کر کے قتل کیا بعد میں قاتلوں نے غیرت کے قتل کا نام دینے کی کوشش کی کوشش کی
ذرائع کے مطابق قاتلوں نے 18 اور 19 فروری کی رات کو قتل کر دیا تھا اور دن کو تقریباً 1 بجے جب گھر سے نکلا حویلی کے پاس پہنچا تو 4 اسلحہ بردار لوگوں نے گن پوائنٹ پر اغواء کر لیا اور چند سیکنڈ میں قتل کر دیا اور سٹوری یہ بنا کر میڈیا کو دی گئی کہ ماں نے غیرت میں قتل کیا وہ بھی 8ایم ایم رائفل سے اور لڑکا انتظار کرتا رہا کہ ماں رائفل لائے اور مارے کتنی حیران کن سٹوری کہ لڑکی رات کی قتل کر لی اور لڑکا دن کو اور غیرت کا نام. دے دیا گیا جسے عوام ماں بھی گئی
جب ہمارے ذرائع نے سماں گاؤں سے معلومات حاصل کی تو پتا چلا کہ قاتلوں کی ساتھی آسیہ بد چلن اور بد کردار ہے عمیر کے ماموں چوہدری بلال زیب ہنجرا سیالوی سپین نے کہا کہ گندی عورت نے بچوں کو مروایا ہے اور غیرت نہیں یہ بے غیرت ہیں جو اب عورت کو آگے کر رہے اگر اتنی غیرت تو عورت کے پیچھے نہ چھپو اور یہ بھی انکشاف ہوا کہ کسی نے لڑکے کے لواحقین کو مس گائیڈ کیا گیا جو 2 زندگیاں نگل گیا اور مقتول کے لواحقین نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ میرٹ پہ تفتیش کر کے اصل حقائق سامنے لائے جائیں انہوں نے مزید کہا کہ یہ کوئی غیرت والا قتل نہیں
1 تو عورت کا یہ کام نہیں اور یہ سب پلان ہے اور ظلم ہےکیوں کہ اگر غیرت ہوتی تو اپنی بیٹی کو بھی یوں بدنام نہ کرتے دوسرا, 8ایم ایم کس طرح عورت چلا سکتی ؟تیسرا, اتنی غیرت ہے تو مرد سامنے آتے عورت کیوں سامنے لا رہے؟
ہمارا بچہ حویلی کے پاس سے اغواء کر کہ قتل کیا گیا ہےلہذا یہ ہمارے ساتھ بہت ظلم اور زیادتی ہے ڈی پی او. صاحب میرٹ پہ تفتیش کر کے ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں اور یہ ماں نے غیرت کے نام پہ قتل کیا والا ڈرامہ بھی بے نقاب کریں تاکہ آئندہ کسی کا جوان بیٹا بلا وجہ نا مارا جایا کرے اور بہت آسان نہ بنایا جائے کہ بعد میں غیرت کا نام دے دیا جائے,حکام بالا نوٹس لیں اس عزت دار اور بزنس برادری اور اوورسیز کے بچے کو یوں قتل کیا گیا ہے یہ کوئی نہ ہی مذاق ہے اور نہ ہی ہم سزا دلوائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے اور مجرمان کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here