مولانا عادل شہید ہو گئے

0
93

وفاق المدارس کے سربراہ مولانا سلیم اللہ خان کے صاحبزادے مولانا ڈاکٹر عادل خان مہتمم جامعہ فاروقیہ کراچی و رکن مجلس عاملہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان اور ان کے ساتھی شاہ فیصل کالونی میں قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوگئے۔پولیس کے مطابق مولانا ویگو گاڑی میں شاہ فیصل کالونی نمبر 2 میں موجود تھے کہ ان کی گاڑی پر مبینہ طور پر موٹر سائیکل سوار ملزمان نے فائرنگ کی۔
پولیس ذرائع کے مطابق انہیں فوری طور پر اسپتال روانہ کیا گیا۔لیاقت نیشنل اسپتال ذرائع کے مطابق مولانا عادل خان اسپتال لائے جانے کے دوران انتقال کر چکے تھے۔ اسپتال ترجمان کے مطابق مولانا عادل کو دو گولیاں لگیں۔ شاہ فیصل کالونی میں فائرنگ، معروف عالم دین مولانا عادل ساتھی سمیت شہید
کراچی کے سرکاری اسپتال جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کی ڈائریکٹر ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق مقصود نامی شخص کی میت جناح اسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچائی گئی۔مقصود مولانا عادل کے ڈرائیور تھے جب کہ پولیس حکام کے مطابق ویگو گاڑی میں موجود ان کے ایک ساتھی عمیر محفوظ رہے۔شاہ فیصل کالونی کے ڈی ایس پی سید علی رضا کے مطابق وہ علاقے میں سانحہ کربلا کے چہلم کے سلسلے میں ایک جلوس کی انتظام ڈیوٹی پر موجود تھے کہ فائرنگ کی اطلاع ملی۔ علی رضا کے مطابق موقع پر پہنچے تو پتہ چلا کہ شمع شاپنگ سینٹر کے باہر کھڑی گاڑی پر فائرنگ کی گئی زخمی ہونے والوں کو فوری طور پر اسپتال روانہ کیا گیا۔واقعہ کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری جائے وقوعہ پر پہنچ گئی اور علاقے کی سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے واردات کی جانچ پڑتال کی جارہی ہے۔آئی جی سندھ مشتاق مہر نے وزیراعلیٰ سندھ کو واقعے کی ابتدائی رپورٹ پیش کی ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ کے ترجمان نے آئی جی سندھ کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا کہ شمع شاپنگ سینٹر شاہ فیصل کے پاس مولانا عادل اپنی ویگو کے ساتھ رُکے تھے۔ اُن کا ایک ساتھی کچھ خریدنے کیلئے سینٹر کے اندر گیا تو اس دوران 2 موٹر سائیکل سوار وں نے مولانا صاحب پر فائرنگ کی۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق 5 گولیاں چلائی گئیں۔ فائرنگ میں مولانا عادل خان اور اُن کا ڈرائیور مقصود جاں بحق ہوگئے۔ مولانا کے ساتھی عمیر کو کوئی نقصان نہیں ہوا اور وہ اسپتال میں ہیں۔بشکریہ روزنامہ جنگ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here