ایم کیوایم پاکستان اور ایم کیوایم لندن ایک ہی سکہ کے دو رخ ہیں مرزا فیصل

0
51

لندن ( پ ر)پاک سرزمین پارٹی برطانیہ کے سنیئر نائب صدر مرزا فیصل محمود نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ بانی ایم کیو ایم , ایم کیوایم اور انڈین ایجنسی را کے خلاف جو باتیں پاک سرزمین پارٹی کے چیرمین سید مصطفی کمال 3 مارچ 2016 سے کر رہے تھے آج پاکستان کا وزیرخارجہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے بانی ایم کیو ایم اور ایم کیو ایم کے سارے ثبوت قوم اور ریاستی اداروں اور دنیا کے سامنے رکھ دیے ھیں اس کے علاوہ پی ڈی ایم میں شامل دو جماعتوں کے خلاف بھی ثبوت دے دیے ھیں ۔ملک دشمن اور انسانیت دشمن عناصر پاکستان میں خون کی ہولی گھیلنا چاہتی ہے اس کے لئے وہ کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے- مرزا فیصل محمود نے مزید کہا ایم کیوایم پاکستان اور ایم کیوایم لندن ایک ہی سکہ کے دو رخ ھیں۔جو مسلسل الطاف حسین کو آکسیجن فراہم کر رہے ھیں ایم کیو ایم پر فل فور پابندی لگنی چاہیے دوسری بات جو عناصر صرف مہاجروں کے اتحاد کی بات کرتے ھیں اور وایس آف کراچی یا کوئی اور نام دے کر صرف مہاجروں کا اتحاد چاہتے ھیں تو ان سے سوال ہے صرف مہاجروں کا اتحاد کیوں? پوری قوم میں اتحاد کیوں نہیں کیونکہ یہی وہ فلسفہ ہے جو پاک سرزمین پارٹی لے کر چلی ہےجس تصویر ٧ نومبر کو ہونے والا کراچی جلسہ تھا ۔پاکستان کو بہت سے اندورنی اور بیرونی چیلنجوں کا سامنا ہے ۔ان حالات میں ریاست پاکستان ان تینوں جماعتوں پر فل فور پابندی عائد کی جن کے ثبوت وزیرخارجہ اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے اپنی پریس کانفرنس میں دیے ھیں ۔اور ملوث عناصر کو قرار واقعی سزا دی جائے۔دشمنان پاکستان قوم میں اور ریاستی اداروں میں تقسیم کر کے پاکستان میں خانہ جنگی جیسے حالات پیدا کرنا چاہتے ھیں ۔ھم نے ان تمام سازشوں کو نا کام بنا تے ہوئے ایک عظیم قوم بن کر ابھرنا ہے۔اب ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ اب ہر ادارے میں اصلاحات لائی جائیں اور جو بات پاک سرزمین پارٹی کے چیرمین سید مصطفی کمال کر رہے ھیں تمام اسٹیک ہولڈرز کے درمیان ;گرینڈ نیشنل ڈائیلاگ :کی وہ کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ ارباب اقتدار اور ارباب اختیار ابتداء کرے اور تمام اسٹیک ہولڈر اور تمام سیاسی جماعتوں کا گرینڈ جرگہ بلایا جائے۔اور سب سے رائے لی جائے کہ کس طرح تمام شعبوں میں بہتری لائی جا سکتی ہے ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here