خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیےکام کرتی ہوں ببلی میرا کیفے بند کر دیا

0
744


این سی اے راولپنڈی میں داخلہ لینے والے طلبا و طالبات کے لیے ضابطہ اخلاق میں ایک نکتہ کیفے ٹیریا میں کام کرنے والے عملے کے احترام سے متعلق بھی ہے جس کی خلاف ورزی کرنے کی سخت سزا بھی ہو سکتی ہے۔
لیکن اب شاید نئے طالبعلموں کو ایسا کچھ نہیں کہا جائے گا کیونکہ کیفے چلانے والے خواجہ سراؤں کے لیے اب یہ ممنوعہ علاقہ بن چکا ہے۔
آٹھ ستمبر 2015 وہ دن تھا جب این سی اے میں خواجہ سرا کمیونٹی کے افراد نے ‘جوبن فوڈ کورٹ’ کے نام سے کیفے کھولا۔ اپنے خاندان اور معاشرے کی جانب سے نظر انداز ہونے والی اس کمیونٹی کو عام انسان کی طرح روزگار کا موقع ایک بہت بڑی پیش رفت قرار دیا گیا لیکن دو برس بعد 23 اکتوبر 2017 میں اس کیفے کو بند کر دیا گیا۔
کیفے کی منتظم ببلی ملک کہتی ہیں کہ انتظامیہ کا رویہ سمجھ سے بالاتر ہے کیونکہ اکتوبر میں میرے ایک بیرونی دورے کے دوران کیفے کو یہ کہہ کر بند کیا گیا کہ ‘حلیم میں روئی نکلی ہے۔ واپسی پر جب میں نے حلیم میں روئی کی موجودگی کا ثبوت مانگا تو انتظامیہ نے وہ دینے کے بجائے یہ ٹینڈر کی بات کر دی جو کہ میں بھر ہی نہیں سکتی کیونکہ میں نہ تو کسی کمپنی سے تعلق رکھتی ہوں اور نہ ہی فرم سے۔ یہ بھی الزام لگا کہ کسی تیسرے فریق کو کام کی اجازت دی جو کہ غلط ہے۔ میں ایک این جی او چلاتی ہوں جو خواجہ سراؤں کے حقوق کے لیے ہی کام کرتی ہے میں ہر وقت یہاں موجود نہیں ہوتی سٹاف موجود ہوتا ہے۔
وہ کہتی ہیں کہ ابتدا میں ہر چند ہفتوں بعد کہا جاتا رہا کہ کیفے دوبارہ کھولنے کی جلد اجازت ملے گی لیکن اب یونیورسٹی انتظامیہ نے ای میل کے ذریعے کہا ہے کہ کیفے بند کرنے کی ڈیڈ لائن دو فروری کو ختم ہو چکی ہے۔ اب اسے فوری طور پر خالی کیا جائے ورنہ اسے کھول کر سامان کیفے کی کینٹین میں رکھوا دیا جائے گا۔ ‘
ببلی ملک کا یہ بھی گلہ ہے کہ سٹوڈنٹس کی جانب سے کیفے سے لیے جانے والے ادھار کی مد میں تقریباً دو لاکھ روپے بھی وصول کرنے کے لیے انتظامیہ نے کوئی مدد نہیں کی۔
بی بی سی کو موصول ہونے والی اس ای میل کی کاپی میں کالج کے منتظم اعظم جمال نے لکھا ہے کہ ‘ این سی اے نے ’نہ نفع نہ نقصان‘ کے اصول کے تحت خواجہ سرا کمیونٹی کو یہ کیفے دیا تھا۔ لیکن پھر یہ کیفے کسی تیسرے فریق کو دے دیا گیا۔’ شکریہ بی بی سی اردو

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here