غلامی کی زنجیر کب ٹوٹے گی

0
119

غلامی کی زنجیر کب ٹوٹے گی
تحریر : مرزا فیصل محمود
سنیئر نائب صدر پاک سرزمین پارٹی

٣٠ اکتوبر کو ملتان میں پی ڈی ایم کا جلسہ متوقع ہو۔ اس جلسہ کو حکومت وقت نے کرونا کی وباء پھیلنے کے خدشے سے اجازت نہیں دی ۔دوسری جانب اپوزیشن جلسہ کرنے کے لئے باضد ہے اور جس وقت میں تحریر کررہا ہوں ابھی تک پکر ڈھکر جاری ہے میرے لئے خاص بات اس جلسے میں سابق صدر آصف علی زرداری کی بیٹی آصفہ کی سیاسی انٹری ہے ۔جب میں نے یہ دیکھا کہ ملک پاکستان اور پاکستان کی عوام کے ساتھ کیا کھلواڑ ہو رہا ہے تو میں اپنے خیالات قوم کے ایک ایک فرد کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں اور میں چاہو گا کہ آپ بھی یہ سوچے اور اپنی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اپنا ردعمل بھی ظاہر کرے کہ ہم نے اپنا مقدر ان چند خاندانوں کے سامنے گروی رکھ دینا ہے جو سونے کے چمچ منہ میں لے کر پیدا ہوئے انہیں کیا معلوم ایک عام شخص کے مسائل کیا ھیں پہلے روٹی کپڑا اور مکان کا نعرہ لگا کر ان سے وہ بھی چھین لیا گیا اور اب ووٹ کو عزت دو کے نام پر ووٹر کو رسوا کیا جا رہا ایک عام شخص کے ٩٠ فیصد مسائل بلدیاتی نظام سے جڑے ہوئے ھیں اگر ووٹر کو اور عام شخص کو عزت دینی ہوتی بلدیاتی الیکشن اور بلدیات کو خودمختار بنانے اور تمام اداروں میں اصلاحات لانے کی بات کرتے خیر میں اپنے موضوع سے ھٹ رہا ہوں میں واپس اپنے موضوع کی طرف آتا ہوں کیا ہمارے آباوں اجداد نے انگریزوں اور ہندوؤں سے آزادی صرف اس لئے لی تھی کہ ہماری قسمت کے فیصلے چند خاندان کریں گے جن کی سیاسی پارٹیاں لمیٹڈ کمپنیاں بن چکی ھیں اور ان کی قابلیت صرف یہ ہے کہ سابق وزیراعظم اور سابق صدر کے بیٹی اور بیٹے ھیں? اور میرے نزدیک قوم کا سر شرم سے جھک جاتا ہے جب راجہ ظفرالحق اور احسن اقبال جیسے لوگ مریم نواز کے پیچے اور بیرسٹر اعتزاز جیسے لوگ بلاول کے پیچھے ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوئے نظر آتے ھیں ۔اس موقع پرمیں چوہدری نثار کو زبردست خراج عقیدت پیش کرناچاہوں گاکہ اس شخص نے غلامی کا طوق اتار کر پھینک دیا ۔انہیں خاموشی کے ساتھ بیٹھنے کے بجائے قوم کی رہنمائی کرنی چاہئے تھی۔آخر کب تک ایسا چلتا رہے گا ?دو خاندانوں کی سیاسی اجارہ داری کو ختم کرنے کا کریڈٹ عمران خان کو جاتا ہے مگر جو توقعات قوم نے عمران خان سے رکھی ہوئی تھیں یا جو خواب عمران خان نے قوم کو دیکھا تھا عمران خان نے قوم کو سخت مایوس کیا اورتقریبا ڈھائی سال گزرنے کے بعد بھی قوم کو ریلیف فراہم نہیں ہوا۔پی ٹی آئی کی 14 قومی اسمبلی کی سیٹیں کراچی والے آج بھی پوچھ رہے ھیں ھمیں نیا پاکستان یا نیا کراچی نہیں مصطفیٰ کمال والا کراچی ہی واپس دے دو ۔ پی ٹی آئی میں بھی مصلحت پسندی آ گی ہے اور نظریات کی جگہ مفادپرست عناصر نے لے لی ہے جس کا واضح ثبوت چینی اور آٹا سکینڈل ہے۔ان حالات میں قوم کو ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے جس نے ماضی میں کچھ ڈلیور کر کے دیکھا ہو۔جو نڈر ہو اور اللہ کی وحدانیت کا اقرار کرتے زمینی ناخداوں کے سامنے کلمہ حق بلند کرتے ہوئے قوم کو ان کے تمام بنیادی حقوق ان کی دہلیز پر دلا سکے جو انسانیت اور پاکستان سے کوٹ کوٹ کر محبت کرتا ہو۔ جو پاکستان کو ایک عظیم ملک اور قوم عظیم بنانا چاہتا ہو اس کی نظریں صرف الیکشن جیتنے کے لئے ہی نا ہوں بلکہ قوم کا بہترین مستقبل ہو جو اپنے نفع اور نقصان کی پرواہ کے بغیر نا صرف انسانی جانوں کوبچاتے ہوئے ملک دشمن عناصر کو بے نقاب کرتے ہوئے ان سازشوں کو ناکام بنا سکے اور قوم نے وہ منظر بھی دیکھا ٣ مارچ ٢٠١٦ کا تاریخ ساز دن پاکستان کے دو بہادر بیٹے سید مصطفی کمال اور انیس قائم خانی اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر کراچی حیدرآباد میں بسنے والے کڑوڑوں لوگوں کی زندگیوں کو بچانے, پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی کو را کے چنگل سے آزاد کروانے مقبوضہ کشمیر کی جنگ کراچی میں جیتنے کے لئے اپنا سب کچھ داوٴ پر لگا کر آے تھے اور وہ یہ جانتے ہوئے بھی آے تھے کراچی حیدرآباد کی دیوار وں پر تحریر ہوتا تھا جو قائد کا غدار ہے وہ موت کا حقدار ہے ۔انہیں معلوم تھا بانی ایم کیو ایم نے غیر تو کيا اپنے بھی نہیں چھوڑے عظیم احمد طارق ،ڈاکٹر عمران فاروق سمیت ہزاروں لوگوں کا خون بانی ایم کیو ایم کے ھاتھوں سے رنگے ہوئے ھیں ۔بانی ایم کیو ایم کی جماعت ایم کیو ایم اور ان کے جھنڈے پر فل فور پابندی لگنی چاہیے ۔مصطفی کمال کی تین مارچ والی پریس کانفرنس کیے گھنٹوں پر محیط تھی اور ان کی تمام گفتگو تین نکات پر مشتمل تھیں نمبر ایک وہ گیےتھے نمبر ٢ ۔وہ آئے کیوں ھیں اور نمبر٣ وہ آئندہ کیا کرنے کا ارادہ رکھتے ھیں۔یہ اللہ تبارک وتعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ مصطفی کمال کی کہی ہوئی باتوں کے ثبوت بانی ایم کیو ایم کے دست راست محمد انور اور ڈی جی آئی ایس پی ار نے سارے ثبوت قوم کے سامنے رکھ دیے ھیں اور اب ریاست پاکستان کی ذمہ داری ہے ایم کیو ایم اور ان کی باقیات کا چیپٹر ھمیشہ ھمیشہ کے لئے بند کر دیا جائے ۔پاک سرزمین پارٹی کے چیئرمین سید مصطفی کمال کا ماضی گواہ ہے انہوں نے اپنے دور حکومت میں کراچی کو دنیا کے ١٢ ترقی کرنے والے شہروں شمار کروایا تھا اور اب وہ یہی جذبہ لے کر پاکستان کی تقدیر بدلنا چاہتے ھیں وہ چاہتے ھیں پاکستان کے ہر گاوں اور شہر کی تقدیر بدلی جائے ۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے
جس کا مفہوم ہے
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی نا ہو خیال جس خود آپ اپنی حالت کے بدلنے کا
ن لیگ کی لمیٹیڈ کمیٹی اور پیپلزپارٹی کی لمیٹیڈ کمیٹی کیا قوم کے حالت بدلیں گی جو ٣٥ سالوں میں پاکستان کی عوام کو صاف پینے کا پانی مہیا نہیں کر سکیں۔
قوم کو خصوصاً نوجوانوں کو علامہ اقبال کے شاہینوں کو خود قیادت کرنی ہوگی۔ مریم نواز,بلاول اور بختاور کی پیروی کی ضرورت نہیں ۔
علامہ اقبال رحمتہ اللہ علیہ
کے خواب کی حقیقی تعبیر بنا ہوگا ۔
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
اور نوجوان ہی نا صرف اپنی تقدیر بلکہ پاکستان کی تقدیر بدل سکتے ھیں
آٹھو یہ وقت ہے
اب خواب کی تعبیر کا

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here